کہتا ھے دل کے پاس تو آنے سے گریز کر۔
Poet: Asad By: Asad, mpkکہتا ھے دل کے پاس تو آنے سے گریز کر
جو تجھکو قریب لے آئے اس بہانے سے گریز کر
بھلے استوار رکھ تو روابط اپنے دل سے۔
ہان مگر کوئی شرط وفا لگانے سے گریز کر
چڑھا دے سولی یار اگر یہ آسان ھے تجھ کو
پر پیار مین تو صبر اپنے آزمانے سے گریز کر
زمانے کا کیا ھے مطلبی ھے وہ صرف مطلبی
تو جھانسے مین اسکے بہرحال آنے سے گریز کر
ساقی مجھ کو پینے دے تو آج بے حساب
اتنا پیا اور ایتا پیا اس پیمانے سے گریز کر
اسد خوب جانتے ہیں ھم کار ستانیاں اپنی
تو مزید اپنے سے ھمیں سمجھانے سے گریز کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






