کہیں ملے تو اسے یہ کہنا

Poet: Afzal Safi افضل صفی
By: SHAHZAR, MuzaffarGarh

کہیں ملے تو اسے یہ کہنا
کہ تنہا ساون بِتا چکا ہوں
میں سارے ارماں جلا چکا ہوں
جو شعلے بھڑکے تھے خواہشوں کے
وہ آنسوؤں سے بجھا چکا ہوں

کہیں ملے تو اسے یہ کہنا
بغیر اس کے اداس ہوں میں
بدلتی رت کا قیاس ہوں میں
بجھا دے اپنی محبتوں سے
سلگتی صدیوں کی پیاس ہوں میں

کہیں ملے تو اسے یہ کہنا
وہ جذبے میرے کچل گیا ہے
جفا کے سانچے میں ڈھل گیا ہے
نہ بدلے موسم بھی اتنا جلدی
وہ جتنا جلدی بدل گیا ہے

کہیں ملے تو اسے یہ کہنا
میں چاک دامن کو سی رہا ہوں
بہت ہی مشکل سے جی رہا ہوں
دیا جو نفرت کا زہر اس نے
سمجھ کے امرت وہ پی رہا ہوں

کہیں ملے تو اسے یہ کہنا
فصیلِ نفرت گرا رہا ہوں
گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
وہ اپنے وعدوں سے پھر گیا ہے
میں اپنے وعدے نبھا رہا ہوں

کہیں ملے تو اسے یہ کہنا
یہ کیسی الجھن میں مر رہا ہوں
میں اپنے سائے سے ڈر رہا ہوں
جو ہو سکے تو سمیٹ لے وہ
میں تنکا تنکا بکھر رہا ہوں

کہیں ملے تو اسے یہ کہنا
نہ دل میں کوئی ملال رکھے
ہمیشہ اپنا خیال رکھے
وہ سارے غم اپنے مجھ کو دے دے
تمام خوشیاں سنبھال رکھے

Rate it:
10 Apr, 2020

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: SHAHZAR
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City