گرمی میں چلا آتا، تُو کیوں آیا دسمبر
Poet: azharm By: azharm, dohaگرمی میں چلا آتا، تُو کیوں آیا دسمبر
پگھلے تو بنے گا نہ کوئی رستہ، دسمبر
محفل میں اُٹھا شور کہ برپا ہوا ہجراں
نکلا تھا مرے منہ سے بر جستہ دسمبر
تھی عشق کی گرمی جو پریشان ہوا تھا
کھسیانی ہنسی ہنستا وہ یخ بستہ دسمبر
یہ کھیل ہی سارا ہے طلب اور رسد کا
مہنگی ہوئی گرمی تو ہے اب سستا دسمبر
اُلفت کے پرستار کہیں عید مناتے
پر اُن کے لئے تُو ہے بڑا خطرہ دسمبر
کہتا ہوں یقیں سے کوئی گُل رہ بھی نہ پاتا
غلطی سے کہیں ہوتا یہ گُلدستہ دسمبر
چل خیر سے اظہر انہیں برداشت کریں گے
ہجراں کی یہ شب، اُس سے یہ پیوستہ دسمبر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






