ہجر کی دُھوپ
Poet: Khan Muhammad Imran - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarہجر کی دُھوپ میں جل رہاتھا یہ بدن میرا،
گیسُو بکھرے جو تمھارے تو مَن کو چین ملا،
دلوں میں خَار جو رکھتے تھے وہ بھی حیراں ہیں،
نصیبِ یار تُجھے کون سا ارمان ملا،
جتنے بھی دوست تھے میرے وہ مُجھے چھوڑ چلے،
میرے نصیب بھلے حلقہِ یاران ملا،
چراغ بُجھا کے بیٹھتے تھے اب چراغاں ہے،
میرے خُدا زندگی میں شبستان ملا،
اپنی قسمت پہ خُدایا میں کیوں نہ ناز کروں،
ہمیں بھی چاہنے والا کوئی جانان ملا۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






