ہوئے ہوئے نہ ہوئے، کون سا کمال ہوئے

Poet: azharm
By: azharm, doha

ہوئے ہوئے نہ ہوئے، کون سا کمال ہوئے
جو کام ہر کسی حالت میں ہی وبال ہوئے

جچے ہیں اُن کی نگہ میں تو آئنے تُو بھی
اُٹھا یہ عکس کہ ہم صاحب جمال ہوئے

یقین کیوں نہیں قربت کا آپ کی ہوتا
کہ آپ آپ نہیں ہو، مرا خیال ہوئے

نہ ابتدا میں تھی مُشکل، نہ انتہا میں ہوئی
جو درمیان رہے مرحلے محال ہوئے

یہ کیا ہوا ہے کہ جزبات تھم گئے اک دم
ذرا سی دیر جو رہتا ہے وہ اُبال ہوئے

جواب اُن کو پتہ تھے ، سو چُپ رہے ہم بھی
اُنہیں سوال ہی کرنے تھے، پھر سوال ہوئے

انا کے خول سے اظہر نکل بھی آؤ کہیں
ہمیں فراق نے مارا ہے ہم نڈھال ہوئے

Rate it:
06 Nov, 2014

More Love / Romantic Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: azharm
Simply another mazdoor in the Gulf looking 4 daily wages .. View More
Visit 179 Other Poetries by azharm »

Reviews & Comments

اظہرم !
بہت خوب
بہت باکمال اور دلکش کلام تخلیق کر
کے آپ نے واقع کمال کر دیا ہے۔۔۔۔
ہر شعر لاجواب اور پر تاثیر لگا۔
داد کے پھول حاضر ہیں۔

By: Azra Naz, Reading UK on Nov, 08 2014


بے حد شکریہ آپ کا عزرا
شاد رہئے اور آباد رہئے ہمیشہ
By: azharm, Rawalpindi on Nov, 10 2014
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City