ہوش رندوں کے اڑا دے تو مزہ آجائے
Poet: By: Shahid Hasrat, Multanہوش رندوں کے اڑا دے تو مزہ آجائے
جام آنکهوں سے پلا دے تو مزہ آجائے
آج پہلو میں وہ بیٹها ہے بڑی دیر کے بعد
رب یہیں رات تهما دے تو مزہ آجائے
میں نے چہرے پہ نگاہوں کو جما رکها ہے
بس وہ گهونگٹ کو ہٹا دے تو مزہ آجائے
اس کا انداز لب و لہجہ بڑا دلکش ہے
کوئی بهی شعر سنا دے تو مزہ آجائے
چاند مغرور ہے اپنی ہی کشش پر ,پاگل
رخ اگر یار دکها دے تو مزہ آجائے
خواب میں دیکها ہے ,بیٹها ہوں اسے گود لیے
کوئی تعبیر بتا دے تو مزہ آجائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






