الزام کچھ نہ کچھ تو مرے سر بھی آئے گا

Poet: قیصر صدیقیBy: نعمان علی, Quetta

الزام کچھ نہ کچھ تو مرے سر بھی آئے گا
آنگن میں پیڑ ہوگا تو پتھر بھی آئے گا

سورج کے غسل کرنے کا منظر بھی آئے گا
ان جنگلوں کے بعد سمندر بھی آئے گا

ساماں جراحتوں کے بھی ہم ساتھ لے چلیں
اس راستے میں شہر ستم گر بھی آئے گا

وہ سانپ جس کو دودھ پلاتی ہے دشمنی
تھیلی سے ایک روز وہ باہر بھی آئے گا

پلکوں پہ اپنی خواب تجلی سجائیے
شام آئی ہے تو رات کا لشکر بھی آئے گا

جو سایہ کھیلتا ہے ابھی میری گود میں
اک دن وہ میرے قد کے برابر بھی آئے گا

اس دوپہر کی دھوپ کو شاید خبر نہیں
صحرا میں کوئی موم کا پیکر بھی آئے گا

جب تم نہیں تو اس کا بھی کیا کام ہے یہاں
تم آؤ گے تو بزم میں قیصرؔ بھی آئے گا

Rate it:
Views: 464
21 Jan, 2022