طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے

Poet: نذیر تبسمBy: عابد, Lahore

طوفاں کا وہم ہے نہ سمندر کا خوف ہے
مجھ میں چھپا ہوا مرے اندر کا خوف ہے

امید جس سے زندہ تھی وہ فصل جل گئی
جو رہن رکھ چکا ہوں اسی گھر کا خوف ہے

میرے بدن میں جس سے دراڑیں سی پڑ گئیں
آنکھوں میں آج بھی اسی منظر کا خوف ہے

آواز دائروں میں مقید سی ہو گئی
ہر اک صدا کو گنبد بے در کا خوف ہے

میں بھی اسی قبیلے کا اک فرد ہوں نذیرؔ
دستار سے زیادہ جسے سر کا خوف ہے

Rate it:
Views: 354
21 Jan, 2022