خود کو کھولیں ، مَیں اور توُ

Poet: Amer RoohaniBy: Amer Roohani, Islamabad

خود کو کھولیں ، مَیں اور توُ
کچھ تو بولیں ، مَیں اور توُ

رات ملیں گے خوابوں میں
جلدی سو لیں ، مَیں اور توُ

گرد جمی ھے دنیا کی
چہرے دھو لیں ، مَیں اور توُ

تجھ میں چپ ھیں ، توُ اور مَیں
مجھ میں بولیں ، مَیں اور توُ

آنکھ مچولی چھوڑ کے اب
آنکھیں کھولیں ، مَیں اور توُ

توڑ کے رسموں کی دیوار
خود کو تولیں ، مَیں اور توُ

اتنا ھنسنا ٹھیک نہیں
کچھ تو رو لیں ، مَیں اور توُ

جیون بھاری بوجھ امـؔر
مل کر ڈھو لیں ، مَیں اور توُ

Rate it:
Views: 289
17 Sep, 2021