تجھ سے دور نہ ہوے تجھ سے دور نہ رہے

Poet: درخشندہ By: Darakhshanda, Huston

 گناہوں کی دلدل میں اترتے بھی رہے نکلتے بھی رہے
ستم پہ ستم خود پر کرتے ہی رہے کرتے ہی رہے


خواہشوں کے بھنور میں ترسے بھی تڑپتے بھی رہے
رضا میں تیری راضی بھی رہے تجھ سے دور نہ رہے


سمندر تیرے کم نہیں آنسو اپنے بھی گرتے ہی رہے
سجود کے عالم میں روتے ہی رہے روتے ہی رہے


نہیں فرشتے عام آدم ہی رہے تیرے خادم بھی رہے
خطا پہ نادم بھی رہے تیری رحمت کے طالب بھی رہے


گرتے بھی رہے سنبھلتے بھی رہے تجھ سے دور نہ ہوے دور نہ رہے

Rate it:
Views: 279
20 Oct, 2021