تمہیں دیکھ کر لگتا ہے ایسے
Poet: درخشندہ By: درخشندہ, Hustonتمہیں دیکھ کر لگتا ہے ایسے
ایک ہی چمن کے دو پھول جیسے
پون کے سنگ وہ اپنے جھولے
یوں گلے مل رہے تھے ہم جیسے
تمہیں دیکھ کر لگتا ہے ایسے
آنگن میں ساتھ کھیلے ہم حیسے
کبھی میں نے کبھی تم نے
چھو لیا ہو ایک دوجے کو جیسے
اک دوجے کی چاہ میں کبھی
ہنس د یۓ کبھی رو د یۓ حیسے
سانجھے مانجھے کے یہ رشتے
ایسے کے تم لگے اپنے حیسے
پھر جانے ہم یوں بچھڑے کیسے
پھر ملے تو لگا جدا ہوے نہ جیسے
پر مل کر بھی ہم ملے نہ کبھی
ہوتا یوں سنگم روحوں کا حیسے
اس رشتے کو نام ہم کیا دیں
نہ ہو کر بھی یہ اک رشتہ جیسے
نہ ہوے ہم فرشتے نہ تم فرشتے
پھر ہوے ہم دو دیوانے جیسے
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






