آؤ محبت سے نئے گھر کی بنیاد رکھتے ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaتم نے بے انتہا دیے تلخیوں کے تحفے
آؤ تمہارے تحفے تمہارے سامنے رکھتے ہے
بہت ہوئے اب سینے پے زخم میرے
آؤ اب لفظوں کے مرہم رکھتے ہے
تم خفاء ہو مجھ سے چلو خفاء ہی سہی
آؤ خوابوں میں لیکن دوستی رکھتے ہے
ہاں ! میری سوچیں ُجدائی سے بھی ڈرتی ہیں
آؤ سوچوں میں وصال رکھتے ہے
تلخیوں کے سہلاب نے توڑ دیے گھر سارے
آؤ محبت سے نئے گھر کی بنیاد رکھتے ہے
نیاء سال آ رہا ہیں آج ایک سال کے بعد لکی
آؤ کہ مل کر نئے سال میں قدم رکھتے ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






