اشکوں نے جب بھی لکھی اثر کی عبارتیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, pakistanاشکوں نے جب بھی لکھی اثر کی عبارتیں
کاغز پر بن گئ ہیں گہر کی عبارتیں
نفرت کی آگ کیسے بجھے گئ بھلا بتاؤ
جب آدمی لکھے گا شرر کی عبارتیں
منزل ملے گئ آپکو لیکن یہ شرط ہے
ہوں نقش دل پہ عزم سفر کی عبارتیں
یہ کہہ رہی ہے چاندنی آنچل بکھیر کر
لکھی ہے میں نے نور نظر کی عبارتیں
آسان تو بہت ہے نشیب و فراز دہر
مشکل مگر ہے زیر و زبر کی عبارتیں
جب بھیجے ہے وہ خط لب شیرین سے چوم کر
گھلتی ہے دل میں شہد و شکر کی عبارتیں
یوں منسلک ہے سانسوں سے رشتہ وجود کا
گنتی کے ساتھ جیسے صفر کی عبارتیں
بھاتی نہیں ہے کوئی عبارت کبھی اسے
پڑھتی ہے وشمہ صرف ہنر کی عبارتیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






