آئینہ دِکھا کر دیکھو
Poet: Imran Raza By: Syed Imran Raza, sargodhaبِالمُقابِل کبھی آئینے کے آ کر دیکھو
آئینے کو ذرا آئینہ دِکھا کر دیکھو
تم کو معلوم کیا، بِپھرے گا سمندر کتنا
درد موجوں کو ذرا اپنا سُنا کر دیکھو
میں محبت ہوں، محبت سے محبت ہے مجھے
تم محبت کو محبت سے بُلا کر دیکھو
زیست کی خوشیوں کو کر دے گی اُجاگر اِک دن
ہر خلش سِینے کی سینے سے لگا کر دیکھو
فرش ہو جاؤنگا، جُھک جاؤنگا، بِچھ جاؤنگا
تم کبھی بُھولے سے وعدہ تو وفا کر دیکھو
ناتوانی کا تقاضہ ہے، نہ اُلجُھوں تم سے
پِھر بھی“ عمران“ سے ذرا ہاتھ چُھڑا کر دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






