آئینہ چومتا ہے جسے اپنے ڈھنگ سے
Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachiجلوے ہیں آشکار عجب روپ رنگ سے
کیا چھوٹ پڑ رہی ہے تیرے انگ انگ سے
لمسِ بدن سے اس کے صبا کی نشت میں ہے
جھونکے ہوا کیے مست ہوئے ہیں ملنگ سے
کس آنکھ کی مجال کہ چھو لے وہ عکس ِ یار
آئینہ چومتا ہے جسے اپنے ڈھنگ سے
صیقل کیا ہے دل کو عجب حسنِ یار نے
جذبات ہو چلے تھے میرے زنگ زنگ سے
کیا جانیے کہ کیا ہے، مگر تن بدن میں آج
اک تھر تھری سی ہے کسی تازہ امنگ سے
فرہاد و قیس و وامق و طارق کا ذکر کیا
اس عشق میں گئے ہیں کئی نام و ننگ سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







