جنوں بہار کی سوگند تھوڑی ہوتا ہے

Poet: Tariq Butt By: Gul Bose, Karachi

کسی بھی رت کا یہ پابندی تھوڑی ہوتا ہے
جنوں بہار کی سوگند تھوڑی ہوتا ہے

ہے جس کو درد کا یارا بڑھائے اپنے قدم
کسی پہ عشق کا دربفد تھوڑی ہوتا ہے

نمو ترنگ میں ہے خار خار شاخِ گلاب
جنوں کا عشق پہ پیوند تھوڑی ہوتا ہے

گھلا ہی دے گی یہ دل کی لگی تمہیں اک دن
مٹے بنا یہاں آنند تھوڑی ہوتا ہے

بنانے پڑتے ہیں بت اپنی آرزوؤں کے
کوئی خود اپنا خداوند تھوڑی ہوتا ہے

کئی حقیقتیں بین السطور ہوتی ہیں
فسانہ یونہی قلم بند تھوڑی ہوتا ہے

ہزار بار کھلے دل پہ جبر کا مفہوم
یہ حجتی ہے ، رضا مند تھوڑی ہوتا ہے

بغیر جوش تخیل بغیر ہوش بیاں
کوئی بھی لہجہ تنو مند تھوڑی ہوتا ہے

جنوں فزا ہے مگر پندِ نا صحان طارق
یہ نشہ آپ سے دو چند تھوڑی ہوتا ہے

Rate it:
Views: 861
27 Feb, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL