آئے گا تیرے کام میرا آخری تحفہ۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaaz, sangla hillبیتاب موسموں کی اگن ساتھ لئے جا
سینے میں گدگداتی چبھن ساتھ لئے جا
سنتے ہیں تیرے نام سے چلتی ہیں بہاریں
ایسا ہے تو روداد چمن ساتھ لئے جا
ہر گام تغیر ہے تیری ذات کا خاصہ
یہ بدلیاں یہ نیل گگن ساتھ لئے جا
نکلا ہوں ذرا شوق کی منزل کو دیکھنے
پیچھے سے صدا آئی “کفن ساتھ لئے جا“
ممکن ہے کہ پھر ٹوٹ کے یاد آئیں اجالے
اے جان تمنا کی کرن ساتھ لئے جا
بے امتیاز پھیلنا فطرت کا نشاں ہے
خوشبو کا بارشوں کا چلن ساتھ لئے جا
وابستہ تیرے ہونے سے ہے رنگ تغزل
جاتے ہوئے یہ سارا سخن ساتھ لئے جا
آئے گا تیرے کام میرا آخری تحفہ
اے حسن یہ بے ساختہ پن ساتھ لئے جا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






