آئے گی تجھے ٹوٹ کے اک یاد یقیناً
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillلائے گی رنگ شوق کی فریاد یقیناً
آئے گی تجھے ٹوٹ کے اک یاد یقیناً
انمٹ ہیں مرے نقش در و بام وفا پہ
روئے گا میرے ہجر میں صیاد یقیناً
کچھ تیرے حوالوں میں لطافت ہی بہت ہے
پھیلی گی چار سو مری روداد یقیناً
جس سمت دیکھئے نظر آتی ہیں تتلیاں
اس باغ میں ہیں خوشبوئیں آزاد یقیناً
چشمے ابل پڑے ہیں خیالات کی صورت
لفظوں میں رچ گئی ہے تری داد یقیناً
تارے ،سیاہ رات،افق ،چمکتا سورج
ہوتی ہی نہیں حسن کی معیاد یقیناً
راہ وفا میں درد کی لہریں بکھر گئیں
دھڑکا ہے یہ میرا دل برباد یقیناً
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






