آج فرصت ہے تو آنکھوں میں نمی آئی ندؔیم
Poet: ندؔیم مراد By: N A D E E M M U R A D, پیٹرمیرڈزبرگ ،جنوبی افریقہدرد بھی دِکھتا ہے، خوشبو بھی نظر آتی ہے
دل میں ہو جزبہ تو یہ مٹی بھی نغماتی ہے
مسکراتا ہے ہر اک غنچہ و گل، ہوں جو خفا
ہولے ہولے سے صبا بھی مجھے بہلاتی ہے
مل ہی جاتی ہے شہنشاہی بھی بیٹھے بیٹھے
کام دنیا کا ہر اک گرچہ مہمّاتی ہے
یاد رہتا نہیں غم ہائے غریب الوطنی
کُونج جب اڑتے ہوئے زور سے کُرلاتی ہے
یاد آتے ہیں مجھے دیس کے ساون بھادوں
بدلی پردیس کی تو آگ ہی برساتی ہے
زندگی سعئی مسلسل کا ہے اک دوسرا نام
نام میں رکھا ہے کیا، عمر تو ڈھل جاتی ہے
یہ لب و لہجہ، یہ اندازِبیاں اور یہ خیال
سچ کہوں! گر نہ برا مانو، روایاتی ہے
آج فرصت ہے توآنکھوں میں نمی آئی ندیم
کب طبیعت تری ہر روز ہی غزلاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






