آج یادوں کے نین بھر آئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا'چند لمحے جو لوٹ کر آئے'
آج یادوں کے نین بھر آئے
پھول کھلتے نہیں تھے شعروں کے
سارا گلشن اداس کر آئے
چشمِ مہتاب کھول رکھی ہے
تا کہ تیری بھی کچھ خبر آئے
دل دھڑکتا تھا چلنے میں لیکن
پھر بھی کر کے ہیں ہم سفر آئے
پھر تو رونے کو دل مچلتا ہے
درد بھی جب جھکا کے سر آئے
عشق تنہا تھا ، میں بھی تنہا تھی
پھر بھی الزام اپنے سر آئے
زندگی کی اداس گلیوں میں
راستے بھی تو کس قدر آئے
دل گرفتہ تھا گاؤں میں لیکن
زخم کھانے کو تیرے در آئے
جیتی بازی کو ہار کر وشمہ
اس کی دنیا میں نام کر آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






