جب پرندوں کے سر نظر آئے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجب پرندوں کے سر نظر آئے
میری راہوں میں کچھ شجر آئے
میرا گلشن اجاڑنے والے
تُو بھی جائے گا اب کدھر آئے
میرے رستے میں راستہ ہے ترا
اور دل میں ہے رہگزر آئے
میری آنکھوں میں بیٹھ کر اک دن
چاہتوں کا خمار ادھر آئے
برف پگھلے گی دشتِ فرقت میں
عکس سورج سا اک اثر آئے
جس نے اڑنا مجھے سکھایا ہے
وہ نہ کاٹے گا میرے پر آئے
میں تو مقروض ہوں محبت کی
یہ نہ جائے گا دردِ سر آئے
تم بھی دروازہ اپنا وا رکھنا
وشمہ آئے گی لوٹ کر آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






