آس کے سب دیئے بُجھانے ہیں
Poet: Muhammad Tariq Khan By: Muhammad Tariq Khan, Mianwaliآس کے سب دئیےبجھانے ہیں
روگ دل کو نئے لگانے ہیں
کون دیتا ہے ساتھ مشکل میں
جھوٹی باتیں ہیں سب فسانے ہیں
نفرتوں کے ڈگر ختم کر کے
پیار کے راستے بنانے ہیں
کیسے پائے گا چین محلوں میں
جس کے دل میں میرے ٹھکانے ہیں
زیست میں تیرے سنگ جو بِیتے
بس وہی پل حسیں سُہانے ہیں
اِتنا مصروف بھی نہیں ہوں میں
بھُولنے کے تُجھے بہانے ہیں
اِس جہالت کے دور نے طارق
جانے کتنے خدا بنانے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






