آنچل سے اپنے کبھی ہوا دے مجھ کو
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinآنچل سے اپنے کبھی ہوا دے مجھ کو
خواب آنکھوں میں بھر کے سلا دے مجھ کو
تیرے فراق کی سکرات لیے پھر رہا ہوں
آرام آ جائے مجھے، دعا دے مجھ کو
کسی خواب میں بھولنے کی سوچوں تجھے
اس خواب میں آ کے جگا دے مجھ کو
میں تمہیں پاس پاکے بھی تم سے نہ مل سکا
کوئی اور راستہ کوئی اور پتا دے مجھ کو
وقت کی آنکھ میں سارے خواب لٹا کے آیا ہوں
مجھے پاس بلا اور سزا دے مجھ کو
کبھی کان کی سرگوشی میں کہہ دے احسن
تو ہو گیا ہے ملنگ اب بھلا دے مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






