آنکھوں میں سجا کر کتابِ برحق و پرنور کو ہر جا دیوانوں کی طرح
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiبسم اللہ الرحمن الرحیم
صلی اللہ علیہ وسلم
جہانِ عالیشاں میں ہر جا میں سچے نشانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
جہانِ امکاں میں ہر جا میں سچے کاروانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
راہِ خیرالورٰیؐ پر چلنے سے ہر جا عیاں ہوتے ہیں خدا کے جلوے، اس لیے
جہانِ عاشقاں میں ہر جا میں سچی داستانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
محبوبِ یزدانی زرے زرے پر ، ہر جا ہیں تیری شفقت کے نشاںِ، اس لیے
جہانِ مہرباں میں ہر جا میں سچے سائبانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
نورِ خدا ہیں حضورؐ ، ہر جا ملتے ہیں نورانی قلب میں، اس لیے
جہانِ جانثاراں میں ہر جا میں ،سچے فدایانِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
آنکھوں میں سجا کر کتابِ برحق و پرنور کو ہر جا دیوانوں کی طرح
جہانِ قرآں میں ہر جا میں، سچے دیوانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہے
عبادت مقبول ہے ہر جا دربارِ خداوندی میں بوسیلہء مصطفٰیؐ اس لیے
جہانِ عرفاں میں ہر جا میں، سچے دامانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
محو حیرت ہے جہاں ابوبکروعمروعثمان و علی کی شان دیکھ کر، اس لیے
جہانِ شہاں میں ہر جا میں ، سچے غلامانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
حضوری ہر شے نے لیا ہے عشقِ حقیقی مستعار سرکار دو عالمؐ سے، اس لیے
جہانِ لامکاں میں ہر جا میں ،سچے امکانِ عشقِ مصطفٰیؐ کو ڈھونڈتا ہوں
صلی اللہ علیہ وسلم
رضی اللہ تعالیٰ عنہ
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






