آنکھوں میں کوئ خواب سمونے نہیں دیتا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiآنکھوں میں کوئ خواب سمونے نہیں دیتا
کیوں اس کا خیال آتا ہے سونے نہیں دیتا
ہر کام میں آ جاتی ہے یاد اس کی ستانے
یوں کام کوئ ڈھنگ سے ہونے نہیں دیتا
بچھڑے تو بہت پیار جتاتا ہے وہ مجھ سے
مل جاۓ تو خود میں مجھے کھونے نہیں دیتا
کھل جاۓ نہ راز اس کی ستم سازی کا سب پر
غزلوں میں مجھے درد پرونے نہیں دیتا
آنکھیں جو بھر آئیں تو ہنسا دیتا ہے مجھ کو
جی بھر کے کبھی مجھ کو وہ رونے نہیں دیتا
دل مانگوں جو واپس تو جواب آتا ہے مجھ کو
میں اپنے کسی کو بھی کھلونے نہیں دیتا
وہ شخص جو باقرؔ مرا بنتا بھی نہیں ہے
کیوں مجھ کو کسی اور کا ہونے نہیں دیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






