آپ نے اب تک جو دیکھے ، آسودہ چہرے دیکھے ہیں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKآپ نے اب تک جو دیکھے ، آسودہ چہرے دیکھے ہیں
بھوک کا مطلب جانے وہ ، جس شخص نے فاقے دیکھے ہیں
وقت کے ہاتھوں مات ملی اس دنیا میں شہ زوروں کو
ہم نے اکثر خاک میں ملتے لاکھوں رُتبے دیکھے ہیں
ساری عمر کہاں رہتا ہے ساتھ میسر اپنوں کا ؟
ہم نے پل میں روپ بدلتے لاکھوں رشتے دیکھے ہیں
کیسے ہوگا ، کیوں کر ہو گا خوشیوں کا ادراک اسے
چھوٹی سی ہی عمر میں جس نے لاکھوں صدمے دیکھے ہیں
سارے منظر دھندلے دھندلے ،بے چہرہ تھے لوگ سبھی
جن پر کچھ بھی رقم نہیں تھا ، وہ بھی کتبے دیکھے ہیں
وقت نہیں رہتا اِک جیسا ، عذراؔ ایک حقیقت ہے
دکھ سکھ کے سب موسم ہم نے آتے جاتے دیکھے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






