آھستہ آھستہ وہ مجھہ سے یوں دور ھو گئے
Poet: JAAN-E-WASHMA By: WASHMA KHAN, MOSCOWآھستہ آھستہ وہ مجھہ سے یوں دور ھو گئے
پہلے پہلے میل لکھنے میں سست ھو گئے
پھر یوں اچھا سا بہانہ کرنے لگئے
اس کے ایس ایم ایس مہنگے ھونے لگئے
پھر آواز سے یوں محروم ھو گئے
کچھہ مہنگی تھی کال اس لئے رہ گئے
وہ آھستہ آھستہ یوں بہانے کرنے لگئے
پھر دل سے آنکھوں سے دور ھوگئے
یوں ھم اکیلے اکیلے رہ گئے
دیکھا تو وہ کسی محترمہ کے زلفوں میں قید ھو گئے
پھر ھم جو ٹوٹے ایسے کہ ابتک نہیں جھوڑے
آھستہ آھستہ وہ مجھہ سے یوں دور ھوگئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






