آ مل مجھے

Poet: درشہوار By: Suhaira Hassan, Attock

آ مل مجھے
کہ ہوں میں ادھورا
میرا من بھی ادھورا
اے میری زات کے حصے
میری پسلی کے ٹوٹے
آ مل مجھے...
آ مل مجھے کہ تکمیل ہو
میری آدھی ادھو ری زات کی
کہ مکمل ہوں خواب بھی
کہ چہرا ملے میرے خیالوں کو

آ.... مل مجھے
کہ خوا ہشوں کو تاب ملے... تمنا جگے
آ مل مجھے کہ سراغ ملے
میری روح تک رسائ کا
میری زرہ زرہ پسپائ کا
آ مل مجھے کہ میرا شعور بنے
خدوخال تیرے جسم کے
کہ پوجا کرے لاشعور میرا
تیرے انگ انگ سے جڑے احساس کی

آمل مجھےکہ تکمیل ہو
کہ بکھریں بے رنگ لمحوں میں سات رتیں
اور رنگ سے خوگر ہوں اندھیر آ نکھیں
آمل مجھے
آ مل مجھے کہ تجدید ملاقات بھی ہو
تیرے وجود کا احساس بھی ہو
تیرے لمس میں دہکے وجود میرا
نہ قید مہ و سال کی ہو
آ مل مجھے کہ تکمیل ہو
میری آدھی ادھوری زات کی
آ..... مل مجھے

Rate it:
Views: 540
14 Aug, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL