آ کے گلے سے لگا لو مجھ کو
Poet: Arbab Bazmi By: Arbab Bazmi, More Eminabad GUJRANWALAآ کے گلے سے لگا لو مجھ کو
مانگ میں آپ سجا لو مجھ کو
سچا سودا ہے بس یہ ہی
ہار کے خود کو پا لو مجھ کو
مہر کہاں قسمت میں مری
سایو خود میں چھُپا لو مجھ کو
دُکھ تو بڑھتے ہی جاتے ہیں
گود میں ماں بٹھا لو مجھ کو
سنگ اپنے پاؤ گے ہر دَم
جب چاہو آزما لو مجھ کو
دُکھ شکنجے میں جکڑا ہوں
تُم جو چاہو چھُڑا لو مجھ کو
کیسے تجھ کو بھُلا پاؤں گا
ممکن گر ہو بھُلا لو مجھ کو
مِلے گر تُجھ کو حُرمت جاناں
جس جا ، چاہو جھُکا لو مجھ کو
بگڑے بچّے کی مانند ہوں
آ کے خوب بنا لو مجھ کو
کرتا ہوں میں اُلفَت بزمی
جو جی آئے سُنا لو مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






