ابتلائے عشق مِیں ھوں
Poet: UA By: UA, Lahoreابتلائے عشق مِیں ہوں
مبتلائے عشق مَیں ہوں
اضطراب و بیقراری
میری روح میں بسی ہے
زودِ رنج ہوں میں رنقا
میرے ہونٹوں کی ہنسی ہے
کوئی کیا سمجھائے ہم کو
جب خرد ہی ساتھ نہ دے
جس کا ساتھ چاہتے ہوں
تقدیر اس کا ہاتھ نہ دے
ایسے میں سمجھانا مشکل
ہے دلِ بےتاب کا
توڑ ڈالے آئینہ
کوئی کیسے اپنے خواب کا
جانتا ہے بس وہی
عشق کی افتاد کیا ہے
جانتا ہے بس وہ ہی
جِس کے دل پہ آن وارد ہوں
بلائیں عشق کی
اے خرد مندو! یہاں سے جاؤ
اپنی راہ لو
اِس دلِ بیمار کو
اَب نہ کوئی صلاح دو
اپنے حال میں مگَن
رہتے ہیں اہلِ عشق بس
پوچھنے والوں کو
یہ کہتے ہیں اہلِ عشق بس
ابتلائے عشق مِیں ہوں
مبتلائے عشق مَیں ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






