ابلیس تیری ایک خدا سے نہ بن سکی
Poet: NAVEED SHAH NISHAT By: NAVEED SHAH NISHAT, Jhelumیہ ضد تھی یا انا کہ سجدہ نہ بن سکی
ابلیس تیری ایک خدا سے نہ بن سکی
ہم آدمی رہے، مگر اس کے نہ بن سکے
اک بات جو قبولِ رضا سے نہ بن سکی
سجدوں میں ہم رہے، مگر تیرے نہ بن سکے
دل میں رہی بغاوت، دعا سے نہ بن سکی
حق بات لب پہ آئی تو لہجہ بدل گیا
وہ بات پھر کسی کی ادا سے نہ بن سکی
سچ کا سفر تھا، ساتھ میں تنہائیاں رہیں
یہ راہ بھی ہجومِ صدا سے نہ بن سکی
کچھ خواب آنکھ بھر کے فقط دیکھتے رہے
تعبیر کوئی لمسِ وفا سے نہ بن سکی
نوید! یہ شکست بھی فتح سے کم نہیں
میں۔۔۔ ہار کر بھی۔۔ اہلِ جفا سے نہ بن سکی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






