دل کے دروازے کو ہر شام کھلا ہی رکھنا

Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

دل کے دروازے کو ہر شام کھلا ہی رکھنا
جیسے ممکن ہو چراغوں کو جلائے رکھنا

راہِ اُمید پہ آنکھوں کو بچھائے رکھنا
کوئی آہٹ ہو تو دھڑکن کو سمجھائے رکھنا

ہجر کی دھوپ میں جلتے ہوئے لمحوں کے لیے
یاد کی چھاؤں کو پلکوں پہ سجائے رکھنا

وہ نہ آئیں تو بھی الزام نہ دینا اُن کو
اپنے حصے میں فقط دل کو منائے رکھنا

کوئی خوشبو، کوئی دستک، کوئی سایہ ہی سہی
اپنی چاہت کا یہ در کھلا ہی رکھائے رکھنا

وقت بے رحم سہی، ضبط بھی لازم ہے مگر
اشک آنکھوں میں کہیں دل میں چھپائے رکھنا

مظہرؔ اک روز وہ پل لوٹ کے آ ہی جائے گا
اپنی اُمید کو بس زندہ بنائے رکھنا

Rate it:
Views: 63
20 Apr, 2026
More Love / Romantic Poetry