ابھی بھی جاننا چاہوگے مسئلہ دل کا؟!
Poet: نوشین فاطمہ By: nosheen fatima abdulhaqq, Multanازل سے عشق ہے ذاتی معاملہ دل کا
چپ اے خرد ! ذرا سننے دے فیصلہ دل کا
یہ عشق باختہ لشکر یہ عشق بےزاری
چلےگا کب تلک ان سے مقابلہ دل کا؟
تم ایک جسم میں رہتے ہو دوستی سے رہو
رہے بخیر خرد سے معاملہ دل کا
بڑھیں گی آگہی سے ذمہ داریاں ہمدم
ابھی بھی جاننا چاہوگے مسئلہ دل کا؟
دھڑک رہا ہے اگرچہ ابھی ابھی ٹوٹا
یہیں سے دیکھ ذرا یار حوصلہ دل کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






