اب اکیلا پن مٹا جاؤ نا کہ عید آئی ہے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaصنم تم بھی آ جاؤ نا کہ عید آئی ہے
مجھے سینے سے لگا جاؤ نا کہ عید آئی ہے
شہر کے شہر جگمگ کر رہے ہیں سارے
نصیب میرے بھی جگا جاؤ نا کہ عید آئی ہے
سہیلیوں کے ہاتھوں پہ مہندی کے پھول
مہندی مجھے بھی لگا جاؤ نا کہ عید آئی ہے
چوڑیوں کی کھنک میں ارمانوں کا شور
سُونی کلائیاں سجا جاؤ نا کہ عید آئی ہے
عید کے چاند نے کی تلخ کلامی مجھ سے
چپ اِسے تم کرا جاؤ نا کہ عید آئی ہے
چراغوں کو لوہ ہیں میرے چارو جانب
چراغ محبت کا جلا جاؤ نا کہ عید آئی ہے
کتنے سال گزرے تری جان کے اکیلے نہال
اب اکیلا پن مٹا جاؤ نا کہ عید آئی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






