اب پہلی سے وہ ملاقاتیں نا رہی
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky) , K.S.Aاب پہلی سے وہ ملاقاتیں نا رہی
سنسان مدہوش چاند راتیں نا رہی
تحفے تو تھے بہت میرے پاس مگر
تیری دی ہوئی وہ سوغاتیں نا رہی
ُاس کی یاد میں آنسو اب بھی بہتے ہیں
بس ساون کی پہلی برساتیں نا رہی
میرے جانے سے تجھے کیا فرق پڑھے گا
تیرے دل میں پہلی سی سعادتیں نا رہی
بھول گئی ہوں خود کو شاید میں
لفظ چنتی ہوں پر بنانے کو باتیں نا رہی
کتنا شوق تھا ُاس کی سعادت کا مجھے
پر آنے والے کو مجھ سے چاہتیں نا رہی
مٹ ہی گیا نا یہ آزمائش کا سفر
نفرت کرنے والے کے دل میں کڑواہتیں نا رہی
میرے قلم نے کیسا درد لکھ دیا ہے
کہ پڑھنے والوں میں ہمتیں نا رہی
بہت کچھ کھویا ہے اپنی نادانی سے لکی
وقت کے ساتھ ساتھ وہ ہماقتیں نا رہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






