آج اک اجڑا ہوا چمن دیکھا
Poet: Arooj Fatima(Lucky) By: Arooj Fatima(Lucky), K.S.Aمیرا چہرہ چھوڑ کر کیوں ُتو نے
صرف اور صرف میرا کہنگھن دیکھا
ُاس کی خاموش آنکھوں میں
آج اک اجڑا ہوا چمن دیکھا
مجھے بھولا دیکھ کر
ُاسے دنیا میں کتنا مگھن دیکھا
چہرے پر یوں تو خوشہالی تھی
میرے قدموں میں ُاس نے تھکن دیکھا
بہاروں تو ُاسی کے ہی ساتھ ہیں
میں تو چاروں طرف گھاگن دیکھا
مچھلی تڑپتی ہیں بن پانی کے
میں نے تڑپتا اپنا من دیکھا
میں عریب وفا کے سوا کیا دیتی
رقیب میں تبھی تو ُاس نے دھن دیکھا
بڑی مددت کے بعد خواب آیا ہے لکی
خواب میں خود کو ُاس کی دلہن دیکھا
اک عرصے کے بعد وصل ہوا تو
دل کو بجتے ٹن ٹن دیکھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






