اب کہہ دو وہ سب جھوٹ تھا (1)
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaاب کہہ دو
وہ سب جھوٹ تھا
جب تم مجھے کال کر کے کہتی تھی
نہال کل کام پہ مت جانا
مجھے کالج سے چھٹی ہے
کل میں گھر پہ ہوں
ہم ملاقات کرینگے
مل کے بات کرینگے
اب کہہ دو
وہ سب جھوٹ تھا
تم مجھے خط لکھا کرتی تھی
تم میرا فکر کیا کرتی تھی
تم ہر بار کہا کرتی تھی
مجھے محبت ہے
مجھے محبت ہے
i love u , i love u
i miss u , i miss u
اب کہہ دو
وہ سب جھوٹ تھا
تم فون کر کے مجھے کہتی تھی
جلد لوٹ آئیے کام سے
میرا دل نہیں لگ رہا
دل بے قرار سا ہے
مجھے ترا دیدار کرنا ہے
مجھے حاصل قرار کرنا ہے
اب کہہ دو
وہ سب جھوٹ تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






