اب یوں کرتے ہیں
Poet: Rizwana Aziz By: Rizwana Aziz , Karachiہار ہم اپنے حصّے میں لیتے ہیں
جیت تمھارے نام کئے دیتے ہیں
غم تمھارے اپنے واسطے لکھوا کر
خوشیاں سب تم پر وار دیتے ہیں
نفرتیں سب سمیٹ کے خود میں
محبّتیں تمہاری طرف پھیر دیتے ہیں
تمہیں گنوارہ نہی ہمکلام بھی ہونا
تولو ! یہ ریت بھی ہم توڑ دیتے ہیں
لفظوں میں بھی تم احتیاط برتتے ہو
تم پر لکھی نظمیں ہم تلف کئے دیتے ہیں
خوش ہو زیست میں اپنی ، خوش رہو
چلو اب محبّت ہم ہی چھوڑ دیتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







