اتنا مشکل بھی نہیں عشق تو آساں بھی نہیں
Poet: azharm By: Azhar, Dohaاتنا مشکل بھی نہیں عشق تو آساں بھی نہیں
باعث درد نہیں، درد کا درماں بھی نہیں
میں ادھر کا بھی نہیں، اور اُدھر کا نہ رہا
تجھ سے راضی بھی نہیں اور میں نالاں بھی نہیں
تُو نہیں ہے، تو بھی احساس ترا رہتا ہے
وصل لگتا بھی نہیں اور یہ ہجراں بھی نہیں
کیا مصیبت ہے، ہوا جب سے محبت کا اسیر
اب تو آزاد نہیں ہوں، پس زنداں بھی نہیں
اُس کے اظہار سے پہلے کوئی امکان تو تھا
اب جو انکار کیا ہے تو وہ امکاں بھی نہیں
خط ملا ہے پہ عبارت ہے شکستہ اظہر
نام عنقا ہے، اور اُس پر کوئی عنواں بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






