اتنا کھل کر نہ ملو تم کہیں کھو جائیں گے ہم
Poet: Jamil Hashmi By: jamil Hashmi, Rawalpindiاتنا کھل کر نہ ملو تم کہیں کھو جائیں گے ہم
تیری باتوں سے تیرے ہو جائیں گے ہم
تیرے لبوں سے جھٹرتے ہیں پھول چاہت کے
تیرے حسیں لفظوں کو بھول نہ پائیں گے ہم
ہم سے دور مت جانا ہمیں چھوڑ کرجاناں
بھول کر بھی تمہیں بہت یاد آئیں گے ہم
نہ چھڑا سکو گے اپنا دامن کبھی ہم سے
لپٹ کر تم سے جدا ہو نہ پائیں گے ہم
رہتا ہے تیرا ذکر ہماری باتوں میں ہر دم
تجھے اپنے دل سے مٹا نہ پائیں گے ہم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






