مجھے تو اب تا عمر وصال لکھنا تھا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , Saudi Arabiaخوابوں کی تعبیر کبھی غلط بھی ہوتی ہے
ہجر کے خواب کو محظ ُبرا خیال لکھنا تھا
مجھے ُاسے اک پغیام لکھنا تھا
صبح سے لے کر شام لکھنا تھا
محفلوں میں بہت چراغاں ہیں آج کل
مجھے ُاسے کے لیے دیے کا سلام لکھنا تھا
کٹ رہی ہیں زندگی کچھ غم کچھ انتظار میں
مجھے ُاس کے آنے تک دل بیقرار لکھنا تھا
ُسہانی رات میں گلداستا بھی گلاب کا
مجھے ُاس کا چہرہ گلاب لکھنا تھا
ہاتھوں میں لے کر ہاتھ کیا کہاں ُاس نے
مجھے تو اب تا عمر وصال لکھنا تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






