اجنبی اک مسافر جو نادان تھا
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, Karachiاجنبی اک مسافر جو نادان تھا
ایک مدّت ہوئی
بیوفا شہر کی بے مرّوت فضاؤں میں آیا مگر
شہر کے تنگ نظر باسیوں نے
تنہاء اجنبی کو ستایا بہت
تنگ آکر وہاں سے چلا اجنبی
وقت رخصت وہ گھوما پھرا شہر میں
گھومتے گھومتے بیوفاء شہر کی
لا تعلق گلی سے گزرتے ہوئے
ایک کھڑکی میں بیٹھی ہوئی
اک حسینہ پہ اسکی نظر رک گئی
اجنبی کی نگاہوں میں چاہت کے ڈورے ابھرتے ہوئے
دیکھ کر اس حسینہ نے کھڑکی کو بند کردیا
اجنبی سے تعلق کا ہر سلسلہ منقع کردیا
آخرش اجنبی دل پہ یادوں کا اک زخم نوخیز لیکر
روانہ ہوا
اپنی آنکھوں میں حسرت کے آنسو لیے
بند کھڑکی کو تکتا روانہ ہوا
بیوفا شہر کی لاتعلق گلی سے روانہ ہوا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






