ادھر کھڑکیاں ہیں ادھر کھڑکیاں
Poet: SYED ISHTIAQ HUSSAIN KAZMI By: WAQAS SHAH, RAWALPINDIادھر کھڑکیاں ہیں ادھر کھڑکیاں
ہم کو دیتی ہیں تیری خبر کھڑکیاں
ہم کو معلوم ہے تیرے گھر کا پتہ
ڈھونڈتی پھرتی ہے اب نظر کھڑکیاں
دید کی جب تمنا ہو حد سے بڑھی
بند ہوتی ہیں دیکھا ہے اکثر کھڑکیاں
ہوا سے تمہی کہو نہ چھیڑے انہیں
کھلی ہیں چلتے ہیں ہم سوچ کر کھڑکیاں
ادھر سے اونچی ہیں بے بس ہیں مجبور ہیں
ادھر سے قربت کی ہیں اک نظر کھڑکیاں
اب دیکھتے ہیں ہم عادتن کھڑکیاں
کہ وہ کھلتی ہیں شام و سحر کھڑکیاں
آپ کو دیکھ کر اس طرح لگا ہے اشتیاق
توڑ ڈالیں گے اب جا کر کھڑکیاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






