اذرہ ذرہ قطرہ قطرہ حال ہمارا جانے ہے
Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wahذرّہ ذرّہ قطرہ قطرہ درد ہمارا جانے ہے
حالِ دل کی ہر اک دھڑکن شوق تمہارا جانے ہے
پتھر پتھر رستہ رستہ شوق ہمارا جانے ہے
ہم نے کس کس درد کو پالا دل یہ سارا جانے ہے
کریہ کریہ گاؤں گاؤں حال یہ سارا جانے ہے
دل کے اندر کیا ہے آخر درد ہمارا جانے ہے
عشق میں جو بھی بیت گئی ہے ہم پہ شبِ ہجراں کی وہ
چاند بھی، تارا بھی، تنہا دل کا یہ کنارا جانے ہے
لوگ تو چہرے پڑھتے ہیں سب اور گزر جاتے ہیں مگر
آنکھوں میں جو خواب ہیں ان کو دل کا دریا جانے ہے
ہم نے اپنے زخم چھپائے ہنس ہنس کر بھی محفل میں
لیکن دل پر کیا گزری ہے درد کا لمحہ جانے ہے
صبر کی چادر اوڑھے ہم دنیا میں رہتے ہیں لیکن
کون ہمارے اشکوں کا اصل شمارا جانے ہے
ذکرِ نبی ﷺ سے روشن روشن رہتا ہے دل کا نگر بھی
اس بستی کی رونق کو رب کا ہی اجالا جانے ہے
اپنے عشق کا چرچا ہم نے کیا کب لوگوں سے شہزاد
حال ہمارا ہم جانیں یا رب یہ ہمارا جانے ہے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






