تو اور میں
Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wahدل کی دھڑکن، تیری خوشبو، میری جوانی، تو اور میں
عشق کا دریا، خواب کا ساحل، رات سہانی، تو اور میں
برگِ خزاں تھا، تیز ہوا تھی، ریت اُڑانی، تو اور میں
پھر بھی دل نے خواب سجائے، ضد تھی پرانی، تو اور میں
ابرِ کرم تھا، چاند کھلا تھا، رات سہانی، تو اور میں
خواب کی وادی، پیار کی خوشبو، عہدِ جوانی، تو اور میں
دھند کے پردے، بھیگی آنکھیں، یاد پرانی، تو اور میں
دل کی چوکھٹ توخاموش ہے رات سہانی، تو اور میں
چاند کی کرنیں، نیند کے رستے، خواب سنہرے جاگ اٹھے
ایک تبسم، ایک محبت، عمرِ روانی، تو اور میں
دشتِ محبت، دور کنارا، پیاس مسلسل بڑھتی رہی
ایک سمندر، ایک مسافر، موجِ روانی، تو اور میں
عمر کے میلے میں سب نے اپنے اپنے رستے چن لیے
راہِ وفا پر رہ گئے آخر ایک دوانی، تو اور میں
دل کے نہاں خانوں میں اب تک گونج رہی ہے ایک صدا
پہلا وعدہ، پہلی چاہت، پہلی نشانی، تو اور میں
چاند اُفق پر رفتہ رفتہ نور بکھیر گیا شہزاد
جھیل کا پانی، اس میں لرزتی ایک کہانی، تو اور میں
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






