اسکی نام جو مجھے بہت محبوب ہے
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti , Karachiآمد سے پہلے ہی تیری تشہیر ہوگئی
اشہر کی ہو بہو تیری تصویر ہوگئی
تاریکیاں چھٹیں کے سحر مسکرا اٹھی
گلشن میں چار سو تیری تنویر ہوگئی
تیرا وجود راحت جان و سرور ہے
تیری ہنسی تو درد میں اکثیر ہوگئی
رحمت تیرے نصیب میں لکھی ہو بے حساب
نازاں تو تجھ پہ خود تیری تقدیر ہوگئی
عبدالطیف و یونس و زہرا کنیز خوش
باسط لطیف آپ کی توقیر ہوگئی
اشراق تو غلام فرید و نظام ہے
کلئیر سے اسکی بات کی تصدیق ہوگئی
نظر کرم شہیر پر محبوب دو جہاں
یہ التجائے اشہر کی تفسیر ہو گئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







