اے جوگی میرے

Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobar K.S.A

اے جوگی میرے
ذرا دیکھ کے بتا
میرے ہاتھوں میں
لکیروں کی
کیوں الجھی ہوئی
تحریریں ہیں
کیوں بگڑی ہوئی
تقدیریں ہیں
گمنام سی کیوں
تصویریں ہیں
اے جوگی میرے
ذرا چھو کے بتا
میری روح کی
سلگتی آگ میں
وہ سانس جو
جلتی رہتی ہے
اور صبح کی وہ
زخمی سحر
میرے دل کو
کیوں دھلاتی ہے
اے جوگی میرے
ذرا سوچ کے بتا
یہ کیسی اس کی
مجبوری ہے
کیوں بے نام سی
یہ دوری ہے
ہر بات اسکی
کیوں ادھوری ہے
یا قسمت کی
منظوری ہے
اے جوگی میرے
محسوس تو کر
میرے من کے
اس کینوس کو
جس میں رنگ کئی
سجائے تھے
وہ روپ کیوں
جلتے آئے ہیں
سوچؤں کے پل صراط
سے کیوں خواب
سلگتے آئے ہیں
اے جوگی میرے
اب ہاتھ اٹھا
لیکر رب کا نام ذرا
مجھ کو دے بس
ایک دعا
وہ لمحہ کاش
پلٹ آئے
جس وقت وہ
ساجن میرا تھا
ہر رات میں وہ
سویرا تھا
میں ہیر تھی اسکے
آنگن کی
جو گیت ہی میرے
گاتا تھا
وہی تو رانجھا
میرا تھا
اے جوگی میرے
کچھ تو بتا
خاموشی کا توڑ
کے در
کشتی میری
پار لگا

Rate it:
Views: 678
09 Jan, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL