اس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہے
Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachiاس طرح تو لگ رہا ہے چاند بھی خطرے میں ہے
اس سے مل کر میں نے جانا روشنی خطرے میں ہے
اس کی صورت دیکھ کر بولا ستاروں سے قمر
یار لگتا ہے کہ اپنی نوکری خطرے میں ہے
اس کے ہاتھوں میں چھری کو دیکھ کر حیران ہوں
انگلیاں خطرے میں ہیں یا پھر چھری خطرے میں ہے
کیا کہا تم نے اسے دیکھا ہے اپنے شہر میں
یعنی اب تو شہر کا ہر آدمی خطرے میں ہے
کون ہیرا ہے یہاں اور کون ہے ہیرا نما
فرق اتنا سا بتا کر جوہری خطرے میں ہے
جھیل سی آنکھوں میں اس کی ڈوب سکتی ہے کبھی
روک لو اس کو کوئی جا کر ندی خطرے میں ہے
بے سر و پا شعر کہہ کر خوش تھا میں عامر عطاؔ
میرؔ جی سپنے میں بولے شاعری خطرے میں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






