خوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھا

Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachi

خوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھا
گھڑی بھر ساتھ تیرا چاہئے تھا

ملا تھا میں مہینوں بعد تم سے
تمہیں سینے سے لگنا چاہئے تھا

میں دنیا گھومنے بے کار نکلا
تری آنکھوں کو تکنا چاہئے تھا

ہمیشہ ہم نے کی تیری تمنا
ہمیں کب تیرے جیسا چاہئے تھا

تجھے سونپا تھا اپنا آپ میں نے
تو پھر محفوظ رکھنا چاہئے تھا

اسے احوال بتلانا ہے اپنا
کوئی زخمی پرندہ چاہئے تھا

تمہارے عشق نے مارا ہے جس کو
مجھے وہ شخص زندہ چاہئے تھا

دغا کر کے بھی کتنے مطمئن ہو
تمہیں تو ڈوب مرنا چاہئے تھا

اسے بخشا گیا پھر ہجر جس کو
جوانی میں بڑھاپا چاہئے تھا

سبھی اچھے ہوں کب چاہا تھا میں نے
مجھے اک دوست اچھا چاہئے تھا

پھنسے ہیں اب وہی مشکل ڈگر میں
جنہیں آسان رستہ چاہئے تھا

کوئی بیوہ کے دکھ کو کیا سمجھتا
سبھوں کو گھر میں حصہ چاہئے تھا

میں سمجھا وہ مری خاطر کھڑی ہے
مگر اس کو تو رکشا چاہئے تھا
 

Rate it:
Views: 191
04 Apr, 2025
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL