اس قدر مایوس کیوں ہو زمانے سے
Poet: Muhammad Anwer Annu By: Muhammad Anwer, Karachiاس قدر مایوس کیوں ہو زمانے سے
کیوں لگا بیٹھی تھیں توقعات غیروں سے
جو جدا کردیں تم کو اپنوں سے
نکال ڈالو ایسی امیدوں کو ہی دل سے
پیار بھی کرو تم اس سے اک حد میں
حد نہ کرو پار گر جاؤ گی نظروں سے
یہ تو اچھا ہوا جلد ہی احساس ہوا
ورنا گزارا کیسے ہوتا آنسوؤں سے
تمھارا خیال تھا وہ پیار کرتا ہے بہت
پگلی وہ تھا مجبور اپنی عادت سے
اب اداس نہ ہو ہنسو اور مسکراؤ
جو من کو بھائے پیار کرو اس سے
نئی کہانی لکھو پھاڑ دو پرانے قصے انو
دنیا کو دیکھو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






